اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سینئر پاکستانی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں توسیع سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ اس اقدام سے جویری معاہدے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان بننے والی اعتماد کی فضا کو شدید نقصان پہنچے گا۔
جامعہ پنجاب كے سينيئر پروفيسر حسن عسكري رضوي نے ايرنا سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ حاليہ ايران مخالف امريكي قانون سمجھ سے بالاتر ہے اور اس كي وجہ سے ايران ميں جوہري معاہدے كے خلاف مخالفت ميں اضافہ ہو گا۔
انہوں نے كہا كہ يہ بات بہت حيران كن ہے كہ امريكہ اس وقت ايران پر پابنديوں ميں توسيع كر رہا ہے جب ايران پہلے ہي مغرب كے ساتھ ايك جوہري معاہدہ كر چكا ہے۔
انہوں نے كہا كہ امريكہ خود ان مذاكرات كا حصہ رہا ہے جس كي وجہ سے امريكي اقدام كا كوئي جواز نہيں اور اس سے ايران اور امريكہ كے درميان بننے والي اعتماد كي فضا كو شديد نقصان پہنچے گا۔
پاكستاني تجزيہ نگار نے اپنے خيالات كا اظہاركرتے ہوے مزيد كہا كہ اس اقدام سے كچھ حاصل نہيں ہوگا اور جوہري ہتياروں كے پھيلاو كے روكنے كي كوششوں كو بھي شديد متاثر كرے گا۔
انہوں نے مزيد كہا كہ ايران جوہري معاہدہ صرف دو ملكوں كے درميان نہيں بلكہ اس ميں چھ اور بھي ملك شامل ہيں يہي وجہ يے كے يہ معاہدہ ہر حال ميں موجود رہے گا۔
پروفيسر حسن عسكري رضوي نے كہا كہ امريكہ ميں يہ تبديلي اس لئے آئي ہے كہ وہاں پر ايك انتہا پسند خيالات ركھنے والي جماعت اقتدارميں آرہي ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲